سرسی 11؍اگست (ایس او نیوز) گزشتہ سال دسمبر میں فرقہ وارانہ تناؤ کے موقع پر ہوناور میں پریش میستا نامی نوجوان کی مشکوک حالت میں لاش دستیاب ہوئی تھی۔ اس کے خلاف سرسی سمیت ضلع کے مختلف مقامات پر سنگھ پریوار کی طرف سے احتجاجی مظاہرے کیے گئے تھے۔
ایسا ہی ایک زبردست احتجاج سرسی شہر میں ہوا تھا جو دکانوں اور مکانوں پر سنگ باری کی وجہ سے فرقہ فساد کا کشید گی پھیلانے کا سبب بنا تھا۔ اس موقع پر پولیس نے کارروائی کرتے ہوئے62افراد کو گرفتار کیا تھا اور پرتشدد مظاہرے میں شامل افراد کی 162 موٹر بائکس ضبط کرلی تھیں۔ اس بات کو تقریباً 8مہینے گزر چکے ہیں ،لیکن تاحال سرسی پولیس اسٹیشن کے احاطے میں 24موٹر بائکس یونہی لاوارث پڑی ہوئی ہیں۔ موٹر بائکس کو چھڑانے کے لئے پولیس اسٹیشن جانے پر دفعہ 307والاکیس درج ہونے کا خطرہ محسوس کرتے ہوئے بائک کے مالکان اپنی گاڑیاں چھڑا نے سے گریز کررہے ہیں جس کی وجہ سے گاڑیاں دھول چاٹتے ہوئے لاوارث پڑی ہیں۔
پولیس افسران کا کہنا ہے کہ جو گاڑیاں انہوں نے ضبط کی ہیں، ان کو چھڑانے کے لئے عدالت سے اجازت حاصل کرنی ہوتی ہے۔ پھر جب یہ لوگ عدالت سے اجازت لے کر پولیس اسٹیشن میں گاڑیاں چھڑانے کے لئے پہنچتے ہیں تو سی سی ٹی وی فوٹیج ، ویڈیو کلپس اور دوسری ثبوتوں کی روشنی میں اس بات کا جائزہ لیا جاتاہے کہ پرتشدد مظاہرے میں مذکورہ شخص شامل تھا یا نہیں ، پھر اسی کے مطابق ضروری کارروائی انجام دی جاتی ہے۔